Thursday, 24 March 2016

baresh ki kami asbab aur tadaruk , mufti rafiuddin haneef qasmi بارش كي كمي ، اسباب اور تدارك ، مفتي رفيع الدين حنيف قاسمي


بسم اللہ الرحمن الرحیم
بارش کی کمی! اسباب اور تدارک
مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
 وادی مصطفی شاہین نگر ،حیدرآباد۔
09550081116
                        rafihaneef90@gmail.com
ادھر کئی ایک سال سے ملک میں بارش کی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے ، جس کی وجہ سے اشیائِ خوردنی کی گرانی ہوش ربا ہوتی جارہی ہے ، پیداوار اور طلب میںعدم توازن کی وجہ سے مارکیٹوں میںاناج اورغلہ بھی مہنگے ہوتے جارہے ہیں ، عام اشیاء خوردنی دال چاول وغیرہ تو عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتے جارہے ہیں، ایسے میں جہاں سارا وبال حکومتوں اور بر سر اقتدار جماعتوں پر ڈال دیا جاتا ہے ، یہ بھی بجا ہے کہ ''أعمالکم عمالکم'' (تمہارے شامتِ اعمال کے نتیجے میں ہی تم پر تمہارے حکام طئے ہوتے  ہیں) اناج اور پیداوار کی کمی ، روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی ہوش ربا گرانی،مہنگائی ، غربت ، افلاس کے جہاں دیگر اسباب ہوسکتے ہیں ، ان میں سے ایک اہم سبب بارش کی کمی کا ہونا بھی ہے ، ادھر چند ایک سالوں سے خصوصا ہمارے ملک کو بارش کی قلت کا سامنا ہے ،ابھی کچھ سالوں قبل ساری رات ہونے والی بارش کے نتیجے میں صبح جب پانی کے بہاؤ کا ساماں اور گڑگڑاہٹ ہر چہار جانب کئی کئی دنوں تک سنائی دیتی تو دل باغ باغ ہو جایا کرتے تھے اور وہ منظر نہایت قابل دید ہوا کرتا تھا، اب بارش کی یہ صورتحال ہوگئی ہے ، کچھ علاقے تو بارش کی بہتات کی وجہ سے بھیانک سیلابوں سے جوجھ رہے ہیں تو دوسری طرف بالکل بارش کا موسم گذرنے پر آسمانوں سے پانی کے قطروں کے لئے لوگ ترس رہے ہیں، جب بھی بادل امڈ آتے ہیں ہلکی سی رند اور بوندا باندی کا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے تو دلوں میں یہ چاہت چاہت تک ہی برقرار رہتی ہے کہ یہ بارش کی بوندا باندی سے موسلادھار بارش میں تبدیل ہوجائے ، اب اس وقت موسم گرما کی ابتدا ہی میں دھوپ کی تمازت اور شدت کی وجہ سے کھیتی اور کاشت کاری کے لئے پانی کی فراہمی دورکی رہی ، پینے کے لئے پانی تک دشواری سے میسر ہوپارہا ہے ، زمین میں پانی کی کمی کا اثر بوریلوں پر بھی خاص طور پر نظر آرہا ہے ۔
اس تحریر کے ذریعے اس بات کی جانب توجہ دلانا مقصود ہے کہ بارش کے موسم کے آمد کے قبل ہی سے ہم امور سے اجتناب کریں اور بارش کی کمی کے اسباب ووجوہات کا پتہ چلا کر ان کے تدارک کی کوشش کریں اور رحمت ایزدی اور اللہ کی اس عظیم عطا وبخشش کو اپنی جانب مبذول کرنے والے بنیں۔
بارش کی کمی کے اسباب :
قرآن آیات واحادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تین اسباب ملتے ہیں جو بارش کی کمی کے کی وجہ بنتے ہیں، ہم ان اساب کے ذکر سے پہلے ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں، جس میں بارش کی کمی کے اسباب کا ذکر آیا ہے :
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے جماعت مہاجرین !پانچ چیزوں میں جب تم مبتلا ہو جاؤ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان چیزوں میں مبتلا ہو۔(١)  اول یہ کہ جس قوم میں فحاشی اعلانیہ ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں (٢)جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط مصائب اور بادشا ہوں (حکمرانوں)کے ظلم وستم میں مبتلا کر دی جاتی ہے(٣) جب کوئی قوم اپنے اموال کی زکوة نہیں دیتی تو بارش روک دی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو ان پر کبھی بھی بارش نہ بر سے(٤)جو قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑتی ہے تو اللہ تعالی غیروں کو ان پر مسلط فرما دیتا ہے جو اس قوم سے عداوت رکھتے ہیں پھر وہ ان کے اموال چھین لیتے ہیں(٥) جب مسلمان حکمران کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالی کے نازل کردہ نظام میں (مرضی کے کچھ احکام)اختیار کرلیتے ہیں (اور باقی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالی اس قوم کو خانہ جنگی اور) باہمی اختلافات میں مبتلا فرما دیتے ہیں۔
اس حدیث کی روشنی میں جہاں موجودہ سارے عالم میں مسلم امت کو درپیش احوال اور مسائل کے اسباب کو بتلایا گیا ہے ، وہیں اس میں بارش اور پانی کی کمی کے دواسباب کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے ۔(١) تو یہ کہ ناپ تول میں کمی کی وجہ سے قحط اور بھوک مری عام کردی جاتی ہے (٢) یہ کہ زکوة کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بارش روک لی جاتی ہے (٣)تیسری وجہ جس کا تذکرہ قرآن کریم کی آیات میں بے شمار مقامات پر آیا ہے وہ معاصی اور گناہوں میں ابتلاء عام ہے ۔
ناپ تول میں کمی بارش کی کمی کا سبب:
تجارت میں ایک بڑا گناہ اور معصیت ، کم ناپنا اور کم تولنا ہے ، یعنی جب کوئی چیز کسی کو بیچی جائے تو جتنا اس خریدنے والے کا حق ہے اس سے کم تول کردے ، عربی میں کم ناپنے اور تولنے کو ''تَطْفِیْف'' کہاجاتا ہے اور یہ ''تطفیف '' صرف تجارت اور لین دین کے لئے مخصوص نہیں ؛بلکہ ''تطفیف'' کا مفہوم بہت وسیع ہے ، وہ یہ کہ دوسرے کا جو بھی حق ہمارے ذمہ واجب ہے اس کواگر اس کا حق کم کرکے دیں تو یہ ''تطفیف'' کے اندر داخل ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
''بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی ، جن کا یہ حال ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کر لیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں اور جب وہ کسی کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں ، کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ انہیں ایک بڑے زبردست دن میں زندہ کر کے اٹھایاجائے گا جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوںگے ۔''(المطففین: ١۔٦)اس ناپ تول کے عظیم گناہ میں ابتلاء عام کی وجہ سے بارش کی کمی اور ، قحط اور بھوک مری عام ہوجاتی ہے ، اسی کو حدیث میں فرمایا:'' لا أخذوا بالسنین وشدة المؤنة وجورالسلطان'' ( یعنی جب وہ لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے قحط ،بارش کی کمی اور سلاطین کے جور وظلم میں مبتلا کئے جاتے ہیں ) آج کل بازاروں میں دھوکہ دہی، ہوشیاری سے مالوں کا سرقہ، اچک لینا اور ملمع سازی اور مصنوعیت کے ذریعے لوگوں کو لبھانا یہ ساری چیزیں اسی کے تحت آتی ہیں۔
زکوة کی عدم ادائیگی بارش کی کمی کا سبب:
جن دیگر اسباب سے بارش کی کمی واقع ہوتی ہے ، جس کااثر بلا امتیاز امیر وغریب ، غنی وفقیرکے سب پر ہوتا ہے ، وہ زکوة کی ادائیگی میں تساہل اور غفلت ہے ، امراء بے شمار اموال اپنے یہاں رکھ کر اس کی زکوة کی ادائیگی اگر کرتے ہیں مکمل ادائیگی نہیں کرتے یا زکوة بالکل ہی نہیں دیتے اور اللہ عزوجل نے در اصل زکوة کی شکل میں امیروں کے مالوں میں غریبوں کا حصہ رکھا ہے ، وہ جب اپنے اموال میں غریبوں کا حصہ بھول جاتے ہیں اور اس کی ادائیگی نہیں کرتے تو غضب خداوندی کی شکل میں بارش روک دی جاتی ہے ، بقیہ زکاة کی عدم ادائیگی کے دیگر عذابات اپنی جگہ ہیں۔اسی کو رسول اللہ ۖ نے فرمایا: '' ولم یمنعوا زکاة أموالھم لا منعوا القطرمن السمائ'' (جب یہ اپنے اموال کی زکوة کی ادائیگی نہیں کرتے تو اس کی وجہ سے آسمانوں سے بارشیں روک دی جاتی ہیں)۔
معاصی اور گناہ میں ابتلاء عام بارش کی کمی کا سبب:
معاصی اور گناہ میں ابتلاء عام کی وجہ سے بھی بارش ، قحط اور بھوک مری عام اور بارش کی کمی کردی جاتی ہے ، آج اللہ کے اوامر اور احکامات پر عمل کرنے والے تو بہت کم رہے ، معاصی اور گناہوں کی بہتات ہے ، سود خوری، زنا کاری، گانا بجانا، بے پردگی ، جھوٹ ، دھوکہ دہی، چوری ، حسد، غیبت ، چغلی ، نہ جانے ہر قسم کی برائیاں ہمارے اندر موجو د ہیں، بے حیائی اور بے پردگی اور گانے بجانے کا فتنہ اور گناہ تو مسلمان اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے ، انہیں معاصی اور گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذابات نازل ہوتے ہیں،اسی کو اللہ عزوجل نے فرمایا:'''خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انھیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں'(الروم: ١٤) اور اللہ عزوجل نے فرمایا :''اور اگر(مکہ والے)سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو با افراط پانی سے سیراب کرتے''(سورة الجن: ١٦)۔اور ایک جگہ معاصی سے بچ کر اطاعت خداوندی میں لگنے والوں کے بارش کی رحمت کے بے پایاں برسانے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:''اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے نعمتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پھر ہم نے ان کے اعمال کے سبب سے گرفت کی''(الأعراف: ٩٦)۔''برکات من السمائ'' سے مراد علامہ ابن کثیر نے فرمایا: آسمان سے قطرے اور زمین کے غلے ہیں(تفسیر ابن کثیر: ١٥٤٣)
ماضی کی امتوں پر بھی معاصی اور گناہوں اور رب کی نافرمانیوں کی نتیجے میں بارش روک دی گی تھی ارشاد باری عزوجل ہے :''اور ہم نے فرعون والوں کو قحطوں میں اور میوں کی کمی میں پکڑ لیا تاکہ وہ نصیحت مانیں''(الأعراف:١٣٠)۔اور ماضی کی امتوں کے تعلق سے فرمایا اگر وہ تورات وانجیل پر کما حقہ عمل پیرا ہوتے تو ہم ان پر ہر قسم کی آسمان وزمین کی کشادگی کرتے ارشاد باری ہے :''اور اگر وہ تورات اور انجیل کوقائم رکھتے اور اس کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے تو اپنے اوپر سے اور اپنے پاں کے نیچے سے کھاتے کچھ لوگ ان میں سیدھی راہ پر ہیں اور اکثر ان میں سے برے کام کر رہے ہیں''(المائدة:٦٦)۔
اگر جانور نہ ہوتے تو بارش ہی نہ ہوتی:
اسی مذکورہ حدیث میںایک اور جملہ نہایت قابل توجہ ہے کہ ان معاصی اور گناہوں اور بارش کی کمی کے اسباب میں ابتلاء کے باوجود کچھ بارش ہوجاتی بھی ہے تو وہ ان جانورں اور بے زبان مخلوقات کی وجہ سے جو ہر دم اللہ کی تسبیح وتحمید اور حمد وثناء میں لگی رہتی ہے ، ''وَِنْ مِنْ شَیْئٍ ِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ وَلٰکِنْ لَا تَفْقَھُونَ تَسْبِیْحَھُمْ''(السرا: ٤٤) اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اسکی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔ اسی کو نبی کریم ۖ نے مذکورہ بالا حدیث شریف میں فرمایا:''لولا البھائم لم یُمطروا''(اگر جانور نہ ہوتے تو بارش ہی نہ ہوتی) ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ سرخاب(ایک قسم کے پرندہ) بھی اپنے گھونسلوں میں ظالم کے ظلم کی وجہ سے مر جاتے ہیں )(تفسیر الطبری، ٢٣١١٧،مؤسسة الرسالة بیروت)حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ :جب قحط اور بھوک مری عام ہوجاتی ہے اور بارش رک جاتی ہے جانور عاصی اور گناہ گار بنی آدم پر لعنت وملامت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قحط سالی اور بارش کی کمی ابن آدم کی ارتکاب معاصی کی وجہ سے ہے ۔(الموسوعة الکویتیة:آثار المعاصی، ٢١٠٣٨)
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ :
''زمین کے جانور اور کیڑے مکوڑے حتی شیر اور گبرے اور بچھو بھی یہ کہتے ہیں:ابن آدم کے گناہوں اور معاصی کی وجہ سے ہم پر بارش روک دی گئی''(الدر المنثور:٣٩١١، مکتبة المعارف، بیروت)
کرنے کے کام :
اگر اللہ کی رحمت کو اپنے جانب متوجہ کرنا ہے تو سب سے پہلے خصوصا ناپ تول کمی سے بچنا اور زکوة کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر معاصی خصوصا بے حیائی ،ناچ گانے اور بے پردگی وغیرہ سے بچنے کا خوب اہتمام کرے ، صلاة استقاء اور دعاؤں میں بارش کی طلب کریں اور قبولیت دعا کے لئے حلال کھانوں کا اہتمام کریں ، حلال کھانے سے حلال کاموں کی توفیق ہوتی ، حرام حرام کاموں کا باعث ہوتا ہے ، اس لئے معاملات میں صفائی کا اہتمام خوب کریں ، اس طرح ہم رحمت خداوندی اور بارش کو اپنی جانب متوجہ کرسکتے ہیں ۔


Saturday, 13 February 2016

mosam e garma our pani pelane ki fazeelat by mufti rafiuddin haneef qasmi موسم گرماـ اور پانی پلانے کی فضیلت ، از مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

موسمِ گرما ـاور پانی پلانے کی فضیلت
مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
 وادی مصطفی شاہین نگر ،حیدرآباد۔
09550081116
                             rafihaneef90@gmail.com



موسمِ گرما کی آمد آمد ہے ، ایسے میں انسان کو پیاس شدت سے لگتی ہے ، اس موقع سے بلا لحاظِ مذہب وملت کے بہت ساریہمدرد ، بہی خواہ ، رفاہی اور عوامی خدمات پر ایقان رکھنے والے ، مخلوقِ خدا کی خدمت کی شوقین وشیدا مختلف مقامات اور بازاروں ، چوراہوں اور گلی نکڑوں پر پانی پلانے کانظم کرتے ہیں ، آبدار خانے قائم کرتے ہیں ،اس عمل کے تعلق سے ہمت افزائی کی جانی چاہئے ، اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی جانی چاہئے ، اور یہ عمل نہایت ثواب اور فضیلت کا حامل ہے پھر کیوں کر رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ترغیب نہ دیتے ؟ اسلام جیسا انسانیت کابہی خواہ ، اور انسانیت کا پاسدار مذہب اس کی تعلیمات سے کیسے پہلو تہی کرتا؟ چنانچہ رسول اللہ ۖ کے ارشادات میں اسکی اہمیت وافادیت زوردیا گیا ہے ، یہ عمل اس کے بظاہر نہایت معمولی ہونے کے باوجود نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔میں نے شہر حیدرآباد میں دیکھا ہے بعض غیر مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی بڑے پیمانے پر موسم گرما میں پانی پلانے کا نظم بڑے تزک واہتمام سے ہوتا ہے ۔ہم تو اس نبی کی امتی ہیں جن کا ایقان یہ ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کرنا در اصل یہ اللہ کے خزانے میں اپنے لئے بطورِ ذخیرۂ آخرت کے اکٹھا کرنا ہے ۔، شہر کے سلم گلیوں میں گرما کے موسم سے پانی کے لئے لوگ ترس جاتے ہیں ، ایسے جب کہ بورویل وغیرہ بھی سوکھ جاتے ہیں ، اس طرح کی سلم اور غریبوں سے معمور بستیوں میں بھی پانی کی ٹینکروں کے ذریعے آبرسانی کی خدمت میں شامل ہونا اور اپنے اور اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے پانی کا نظم کرنا یہ مرحومین کے لئے ثواب جاریہ کا ذریعہ ہوسکتا ہے ۔یہ تو انسان ہیں،نبی کریم ۖ کے ارشادات میں جانوروں تک کے لئے پانی کے نظم کرنے پر اجر وثواب اور جنت کی بشارتیں سنائی گئیں ہیں ۔
پانی پلانا ـ ثوابِ جاریہ
پانی پلانی کو احادیث نبویہ میں صدقۂ جاریہ فرمایا گیاہے ، جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی انسان کو ملتارہتا ہے ، کنویں ، بوریل، ٹانکی وغیرہ کی شکل میں غریبوں اور ناداروں کے لئے پانی کا نظم کرنا یہ مرحومین کے ایصال ثواب اور ان کے اجرِ آخرت اور صدقہ جاریہ ہوسکتا ہے ۔
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ۖ سے عرض کیا: اللہ کے رسول : میری والدہ وفات پاگئی ہیں اوران کی طرف سے کونسا صدقہ افضل رہے گا؟ اللہ کے رسول اللہ ۖ نے فرمایا: پانی کا صدقہ، چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوا کر وقف کردیا اور کہا یہ سعد کی والدہ کے ثواب کے لئے ہے '' فحفر بئرا وقال : ھذہ لأم سعد'' (ابوداؤد: باب فی فضل سقی المائ، حدیث:١٦٨٣)۔
پانی پلانا بہترین صدقہ ہے 
پانی پلانے اور پیاسوں کی سیرابی کا عمل یہ ایک نہایت بہترین صدقہ ہے ، جس کی احادیث میں ترغیب دی گئی ہے۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:''بہترین صدقہ پانی پلانا ہے ، کیا تم نے جہنمیوں کے اس قول کو نہیں سناجب انہوں نے اہل جنت سے مدد چاہی او ران لوگوں نے کہا:''أَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَائِ أَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ'' ہم پر تھوڑا سا پانی بہا دو ،یا کچھ اس چیز میں سے دو جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے(مسند ابی یعلی، مسند ابن عباس، حدیث: ٦٢٧٣) ۔
اورایک روایت میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ۖنے ان سے فرمایا: اے سعد! کیا میں تمہیں ایسا ہلکا صدقہ جس میں بوجھ بالکل کم ہو نہ بتاؤں؟ فرمایا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! فرمایا: ''سقی المائ'' پانی پلانا، چنانچہ حضرت سعد نے پانی پلایا۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث:٥٢٤٧)
پانی پلانا ـمغفرت وبخشش کا باعث:
پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ، ثواب اور اجر آخرت اور رضائے خداوندی اور خوشنودی رب کا نہایت بڑا ذریعہ، روزِ آخرت بخش اور مغفرت کا باعث ہوتا ہے ،صرف اسی عمل کی وجہ سے انسان جہنم سے خلاصی حاصل کر کے جنت کا مستحق ہوسکتا ہے ، اسی کوحدیث میں یوں فرمایا گیا:
ابوہریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی، چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر والے یعنی جاندار میں ثواب ہے'' فی کل کبد رطبة أجر''(بخاری: باب فضل سقی المائ: حدیث: ٢٢٣٤،)۔
دنیا کے پانی کے بدلے جنت کی شراب:
دنیا میں پانی پلانے اور انسانوں اور جانوروں وغیرہ کا سیراب اور ان کی تشنگی کا سامان کرنے کا اجر وثواب اس قدر ہے کہ اس پانی پلانے کے عوض اللہ عزوجل روز قیامت اور یومِ آخرت اس شخص کو اس پانی کے بدلے جنت کی شراب مرحمت فرمائیں گے چنانچہ حدیث میں آیا ہے  :
 حضرت ابوسعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی ننگے کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالی اس کو جنت کا ہرا لباس پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے کو کھانا کھلائے تو اللہ تعالی اس کو جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مسلمان کسی پیاسے کو پانی پلائے تو اس کو اللہ تعالی جنت کی شراب پلائے گا۔'' وأیما مسلم سقی مسلمان علی ظمأ سقاہ اللہ من الرحیق المختوم''(ابوداؤد: باب فی فضل سقی الماء ، حدیث: ١٦٨٤)
جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والا عمل:
انسانوں کی تشنگی کا سامان کرنا اور ان کو پانی پلانا اور شدت پیاس میں ان کو سیراب کرنایہ ایساعمل ہے جس کو جنت سے قربت اور جہنم سے دوری کاباعث بتلایا گیا ہے ۔ایک روایت میں ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ۖ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسا عمل بتلادیئجے جو مجھے اللہ عزوجل کی اطاعت سے قریب اور جہنم سے دور کردے ، فرمایا: کیا تم ان دونوں پر عمل کرو گے ؟ تو اس نے کہا : ہاں ، تو آپ ۖ نے فرمایا: انصاف کی بات کہو اور زائد کو دوسروں کو مرحمت کردو، فرمایا: اللہ کی قسم ! میں نہ تو انصاف کی بات کرسکتا ہوں اور نہ زائد چیز کسی کو دے سکتا ہوں ، فرمایا: کھانا کھلاؤں اور سلام کرو، اس نے کہا : یہ بھی مشکل ہے ، فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں، اس نے کہا:ہاں، تو آپ ۖ نے فرمایا: اپنے ایک اونٹنی اور ایک مشکیزہ لو، پھر ان لوگوں کے گھر جاؤ جن کو کبھی کبھی ملتا ہے ، انہیں پانی پلاؤ، شاید کہ تمہاری اونٹنی ہلاک ہواور تمہارے مشکیزہ پھٹ جائے اس سے پہلے تمہارے لئے جنت واجب ہوجائے گی، راوی کہتے ہیں کہ : وہ دیہاتی تکبیر کہتا ہوا چلا، کہتے ہیں : اس کے مشکیزہ سے کے پھٹنے اور اور اس کی اونٹنی کے ہلاک ہونے سے پہلے وہ شہادت کی موت مرا '' فما انخرق سقاء ہ ولا ہلک بعیرہ حتی قتل شھیدا''(السنن الکبری للبیہقی، باب ما ورد فی سقی المائ، حدیث: ٧٥٩٨)
جانوروں کو سیراب کا  بھی ثواب کا باعث:
اتنا ہی نہیں انسانی کی تشنگی کا سامان کرنے پر ہی انسان کو ثواب ملتا ہے ؛ بلکہ کسی پیاسے اور سسکتے بلتے اور پیاس کی شدت سے تڑپتے ہوئے جانور کے لئے پانی پلانے اور اور اس کی سیرابی کا سامان کرنے پر اجر وثواب کاوعدہ کیا گیا ہے چنانچہ ایک روایت میں  سراقہ بن مالک بن جعشم سے مروی ہے
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کرلو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جبکہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لئے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔'' نعم فی الکبد الحراء أجر'' (مسند احمد، حدیث سراقة بن جعشم، حدیث: ١٧٦٢٤)
الغرض یہ کہ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیراب کاسامان کرنا، انسانی کی پانی کی ضروریات کی تکمیل یہ نہایت اجر وثواب اور بلندی درجات کا باعث ہے، نہ صرف انسانوں کو پانی پلانا یہ اجر وثواب آخرت اور رضائے خداوندی اور دخول جنت کا ذریعہ کا ہے ؛ بلکہ پیاسے جانوروں کے لئے پانی کانظم کرنا یہ بھی ثواب اور اجر آخرت کا باعث ہے ۔


مولانا غیاث احمد رشادی، امت کا ایک دھڑکتا دل، MOLANA GAYAS AHNMED RASHAdI

  مولانا غیاث احمد رشادی، امت کا ایک دھڑکتا دل رفيع الدين حنيف قاسمي، اداره علم وعرفان ، حيدرآباد در نایاب، یگانہ روزگار ، ممتازفعال، مت...